قصور پولیس کا انوکھا انصاف۔حقائق کا علم ہونے کے باوجود جھوٹھا مقدمہ درج کر دیا

ایس ایچ او تھانہ مصطفی آباد سب انسپکٹر مہر شریف نے میرے خلاف ایک جھوٹھا مقدمہ درج کیا ہے
اصل حقائق
6/11/2020بروزجمعہ 15پر کال آئی کے سرہالی روڈ پر ایک بندے کو فائر لگ گیا ہے پولیس تھانہ مصطفی آباد کا اے ایس آئی سلیم۔شپیشل برانچ اور سیکورٹی برانچ کے ملازمین فوری موقع پر پہنچ گئے اور جاکر حالات و واقعات معلوم کئے وہاں موجود افراد نے کہا کہ نامعلوم سمت سے آنے والا فائر محمد خالد کو لگ گیا ہے۔پولیس کے جانے سے قبل ہی مذکورہ افراد مضروب کو لیکر لاہور چلے گئے۔
جن کا بندہ فائر لگنے سے زخمی ہوا تھا ان کا ہمارے صحافی سیٹھ محمد حسین کے ساتھ زمین کا تنازعہ چل رہا تھا مذکورہ افراد نے دوسرے دن سیٹھ محمد حسین کا نام لینا شروع کر دیا۔ہم نے اس وقت کے ایس ایچ او رانا حسیب انجم کو کہا کہ اگر وہ ہمارے خلاف درخواست دیں تو دونوں پارٹیوں کو سن لیا جائے ہمارا اس واقع سے دور دور تک کا کوئی تعلق واسطہ نہ ہے ۔چار سے پانچ روز بعدانہوں نے جو درخواست تھانے میں دی اس میں درخواست گزار محمد ندیم نے سیٹھ محمد حسین اس کے کزن صلاح الدین ۔ملک عثمان اور میرا نام محمد عمران سلفی دے دیا۔درخواست انسپکٹر حیدر کے پاس پہنچ گئی ہم نے دوبارہ پارٹیوں کو سننے کی زد کی تو انسپکٹر حیدر نے دونوں پارٹیوں کو تھانے بلایا لیکن درخواست گزار پارٹی نہ آئی۔
اسی دوران ایس ایچ او رانا حسیب انجم تبدیل ہو گیا اس نے مجھے فون کرکے کہا کہ میری نوکری کا مصلح بن جائے گا میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیکرجا رہا ہوں میں نےتمام حقائق سے ڈی پی او قصور عمران کشور کو آگاہ کیا تو ڈی پی او قصورعمران کشور نے پولیس کو مقدمہ درج کرنے سے روک کر میرٹ کرنے کا حکم دے دیا۔مقدمہ رکنے کے بعددوبارہ بلایا تو درخواست گزار ایک بندہ لیکر آگیا۔موقع کے گواہ بلانے کا کہا گیا تو ایک گواہ ملک شہزاد موقع پر آگیا ہم نے کہا کہ ہم سے قسم لے لو یاموقع کے گواہ قسم دے دیں
آگلے دن چار بجے کا ٹائم ہوا کہ موقع کے گواہ مسجد میں جاکر قسم دیں گے اور مقدمہ درج کر لیا جائے گا لیکن اس کے بعد مزکورہ افراد پولیس کے بلانے کے باوجود تھانے نہ آئے ۔گزشتہ روز17 نومبر کو ایس ایچ او تھانہ مصطفی آباد مہر محمد شریف نے تمام حقائق کا علم ہونے کے باوجود نہ جانے کس کے حکم پر یا کس مجبوری کی وجہ سے مقدمہ نمبر 749/20درج کرکے انصاف کا گلہ دبا دیا ۔
جس وقت بندہ فائر لگنے سے زخمی ہوا اس وقت میں محمد عمران سلفی پریس کلب۔سیٹھ محمد حسین اورصلاح الدین قصورکچہری اور ملک عثمان کاہنہ میں موجود تھا اس کی موبائل لوکیشن بھی پولیس کے پاس موجود تھی۔
ہم جھوٹھا مقدمہ درج کرنے اور اس کا حکم دینے والے افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
جھوٹھا مقدمہ فوری خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں
جھوٹھا مقدمہ درج کروانے والے مدعی مقدمہ اور موقع کے گواہان کو اسی مقدمہ میں چلان کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button