یو اے ای کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد سعودی عرب اور پاکستان آمنے سامنے۔خطے میں کیا ہونے جا رہا ہے۔پاک سعودی تعلقات میں نیا موڈآ گیا۔قائد اعظم کی تمام باتیں سچ ثابت

پاکستان بالکل سعودیہ اور ترکی کے ساتھ چل سکتا ہے لیکن اس صورت میں کہ تعلقات میں مفادات کو برابری دی جائے. اور تعلقات میں مفادات کا ٹکڑاؤ پیدا نا ہو. مثلاً جِن دنوں پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پہ کھڑے تھے تب سعودیہ بھارت کے ساتھ تیل معاہدہ کر رہا تھا.
ہم نے سعودیہ کے سامنے اِس معاہدے پر اُف تک نہ کی. لیکن دوسری جانب جب پاک ایران گیس پائپ لائن کی بات ہوئی تو سعودیہ نے اِس معاہدے کی مخالفت کی. نا صرف مخالفت بلکہ امریکہ کے اس پروپوزل کو سراہا جس میں کہیں اور سے مہگنی گیس لینے کا کہا گیا تھا. تو یہ مفادات کی برابری نہیں ہے.
اب مفادات کے ٹکڑاؤ پہ آ جائیے. پہلی مثال ارطغرل ہے. پاکستان نے ترکی کا ڈرامہ ارطغرل ریلیز کیا. جواب میں ترکی نے پاکستان کےلیے ترکش زبان میں پاکستان پہ بنی ڈاکومنٹری ترکی میں ریلیز کی. نتیجہ یہ نکلا کہ آج ترکی اور پاکستان کے عوام آپس میں بھائی بھائی بنے ہیں. لیکن بجائے اس کے کہ امت میں بھائی چارہ پیدا کرنے کی اس کوشش کو سراہا جاتا. الٹا سعودیہ نے ارطغرل کی ریلیز کو ناپسند کیا.
یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے. یعنی جس بات سے پاکستان اور ترکی کو فائدہ ہو رہا ہے اس بات پہ سعودیہ کو اختلاف تھا. بات صرف اتنی نہیں بلکہ اس اختلاف میں سعودیہ ترکی اور پاکستان کے خلاف یورپ اور امریکہ کے ساتھ کھڑا تھا.
مفادات کے ٹکڑاؤ کی دوسری مثال لیں.
پاکستان، ترکی اور ملائشیا نے مل کر فیصلہ کیا کہ ایک مشترکہ کانفرنس بلاتے ہیں. جس میں تینوں مُلک مل کے مسئلہِ کشمیر، خطے کے مسائل اور باہمی مفادات پہ بات کریں اور یورپی دنیا کی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے کےلیے مشترکہ پالیسی بنائیں. احتیاط کے طور پر ایران کو اس کانفرنس سے علیحدہ رکھا گیا کہ تا کہ سعودیہ ناراض نا ہو. سعودیہ نے عین آخری موقع پر پاکستان کے سر پہ بم نکال مارا اور واضح دھمکی لگائی کہ کانفرنس میں شرکت کی تو نتیجہ اچھا نہیں ہو گا. مجبوری کے طور پر ہم نے بالکل آخری موقع پر ترکی اور ملائشیا کو کانفرنس میں شرکت کرنے سے جواب دے دیا. اس حرکت پر ترکی اور ملائشیا دونوں کو صدمہ ہوا مگر ان کی اعلی ظرفی کے انہوں نے سعودیہ کی طرح پاکستان کو کسی برے نتیجے کی دھمکی نا دی.
یہ مفادات کے ٹکراؤ کی دوسری مثال تھی.
خود سعودیہ بھارت سے دوستی کرے اور اسرائیل سے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت تعلقات بھی رکھے. پر جب ہماری باری آئے تو ہمیں ایران ترکی اور ملائشیا جیسے ملکوں سے بھی دور رہنے کا حکم کر دے. یہ کہاں کا انصاف ہے اور کیسی دیانت داری ہے؟ اور کون باشعور انسان اسے اچھا تعلق کہتا ہے؟ دوستی کے نام پر دوستی کی جاتی ہے مالک اور نوکر والا تعلق نہیں ہوتا.
بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستان مالی اور معاشی طور پر مصیبت میں ہے. پاکستان کو تیل کی سپلائی بند اور ایک ارب ڈالر واپس مانگ کے آلِ سعود نے کیا واقعی دوستی کا ثبوت دیا ہے؟ کیا آلِ سعود پہ واقعی اتنی غربت ہے جو ہمیں قرض واپسی کےلیے اتنا مجبور کیا کہ ہمیں چین سے ادھار مانگ کر سعودیہ کو دینے پڑے؟
تو گزارش اتنی سی ہے کہ ہم ہر گز نہیں چاہتے کہ سعودیہ سے تعلقات ختم ہوں. ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ گاہے گاہے جو تڑیاں سعودیہ پاکستان، ترکی یا ایران کو لگاتا ہے وہ تڑی صرف ایک دفعہ اسرائیل کو لگا دے. یقین مانیں پوری مسلمان دنیا سعودیہ کے ساتھ کھڑی ہو گی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button