سگے باپ کی اپنی سے 2سال تک تعلقات لڑکی نے سب بتا دیا
کچھ دنوں کی بات ہے کہ مجھے ایک لڑکی کی کال آئی اس نے مجھتے اتنا رو لایا کہ میں اس سے پہلے کبھی بھی اتنا زیادہ پریشان نہیں ہوا اور شاید آپ بھی بات کو سن کر آپ اپنے آنسو نہیں روک پائیں گے کہ مجھے اس نے فون پرکیابتایا اور مجھ سے کہا کہ مسئلہ دریافت کیا کہ
مفتی صاحب میں جب اپنے گھر میں رہتی تھی تو میرے والد میرے باپ جو شراب کے عادی تھے کیوں کہ میری ماں نہیں اور میرے گھر میں اور کوئی نہیں تھا میں اکیلی تھی میرے باپ تھے اور شراب کی لت ان کی ایسی لگی ہوئی تھی کہ وہ بنا شراب راہ نہیں سکتے تھے لیکن ایک رات وہ شراب پی کر آئے اور انہوں نے میرے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی اور وہ خاتون روتی جا رہی تھی اپنی بات بتا تی جا رہی تھی کہ میرے باپ نے ہی میری عزت پر حملہ کیا کیا لیکن میں نےباپ کو روکنے کی کوشش کی مگر باپ نہیں رکا یہاں تک کہ میں چیخنے چلانے لگے تو انہوں نے بہت زیادہ دھمکیاں دی اور اس کے بعد اس نے میری عزت کو بہت زیادہ میری عزت کے ساتھ بہت کھیلا اس طریقے سے ایک دن دو دن بلکہ کئی سال تک ایسا معاملہ میرے ساتھ رہا ہاں تو کہنے لگی کہ پھر میری شادی ہوگی شادی کے بعد میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہوں لیکن اپنےباپ سے نہ ملتی ہوں اور نہ اس کا چہرہ دیکھنے کا میرا دل کرتا ہے ملنے کو دل کرتا ہےباپ کے گھر جانے کو دل کرتا ہے ہے۔ تو کیا میرے اوپر کوئی گناہ ہے تو میں نے ان کو سمجھایا اور وہ میں نے ان ایک واقع سنایا
اس سے پہلے آپ یہ سمجھیں کہ آج قوم کہاں جا چکی ہے ہیں یعنی کہ ایسی شرمناک حرکت اپنی بیٹی کے ساتھ کیوں ایسا ہوا صرف اور صرف اس وجہ سے کہ چودہ سو سال پہلے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ شراب تمام برائیوں کی جڑ ای شراب جب انسان پی لیتا ہے تو پھر وہ بیٹی اور بیوی میں فرق کرنا بھول جاتا ہے وہ پھراتنا پتا نہٰں رہتا ہے کہ میری بیوی کون ہے میری بیٹی کون ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے بتائیں پھر میں نے خاتون کو بہن کو میں نے واقعہ بتایا میں نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت قیص رضی اللہ تعالی عنہ ایک صحابی تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور آکر کہا گیا اللہ نبی مجھے اسلام قبول کرنا ہے آپ نے فرمایا کی قیص اچھی بات اسلام قبول کر لو لیکن ایک ایسا اپنی زندگی کا کوئی ایسا سنگین گناہ اپنا جرم بتاؤ یہ جرم جو آج تک تمہیں پریشان کر رہا ہے انہوںں نے نے اپنا واقعہ بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ جاہلیت میں میں نے اپنی بیوی میری بیوی حاملہ تھی ب میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر لڑکا پیدا ہو تو اس کو پالنا لڑکی پیدا ہو تو زمین دفن کر دینا یہ کہہ کے میں سفر پر چلا گیا لہذا میری بیٹی پیدا ہوئی تو میری بیوی نے میرے اندر کے غصے کی وجہ سے میری بیٹی کو اپنی بہن کے یہاں پالنے کے لیے دیا یعنی وہ اپنی خالہ پلے جب میں واپس آیا تو میں نے پوچھا کہ بھائی کیا ہوا تو نے بیوی نے بتایا کہ لڑکی پیدا ہوئی تو زمین میں دفن کر دیا طرح سے چار سال گزر گئے تو جب چار سال کے بعد میں اپنے گھر میں داخل ہوا ہے ایک دن تو میں نے دیکھا کہ میری بیوی چھوٹی سی معصوم سی بچی کے پاس بیٹھی ہوئی ہیں اس بچی کو چوم رہی ہے بچی بڑی معصوم لگ رہی تھی لڑکی کون تھی تو اس نے پوچھا کہ لاؤ اس میں نے اپنی بیوی سے کہا میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی تو میں بھی پا لیتا تو بیوی نے کہا اسی کو پا لوں تو کہنے لگے کہ جب میری ہی نہیں تمہیں کیوں بولوں گا کے اس کو پال لو اب جب آپ کے دل میں بیٹی کا رحم آ گیا ہے تو میں آپ کو بتا دیتی ہوں کہ یہ میری ہی بچی ہے جو چار سال پہلے آپ سفر پر گئے تھے میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا کہ مرا ہوا بچہ پیدا ہوا تھا یہی ہے اور یہ بچی میں نے اپنی بہن کے ہاں بڑھنے کو دے دی تھی وہاں پر لے دیں تو یار اب جواب کی اجازت ہوگی تو میں اس کو پل لیں ٹھیک ہے تو وہ کہنے لگے کچھ دنوں کے بعد لوگوں نے اگر تنقید طعنہ دینا شروع کر دیا اب تو کسی کے کسی کو اپنا داماد بناؤ گے کسی کو سمدھی بناؤ گے اور تمہارے ابھی بیٹیاں گی ان باتوں کو لے کر کے اس برداشت نہ کر سکے بیٹی کو لیا اور بیوں سے کہا کہ میری بیٹی کو نہلا دھلا دو اچھے کپڑے پہنا دو آج کے بعد تم اپنی بچی کی شکل نہیں دیکھو مائی سمجھ گئی کہ ہمارا اشارہ کیا جاتا ہے تو وہ نہلانے دھلانے لگی اور روتی جا رہی تھی وہ بیٹی اپنی ماں کی طرف دیکھ کر کہتی ہے کہ تمہارے باپ تم کو کسی دوست سے ملوانے کے لے کے جا رہے ہیں وہ بیٹی اپنے باپ کے ساتھ چلنے لگیں چلتے چلتے جب منزل مقصود تک پہنچے تو میں نے کھڈا کھودنا زمین میں شروع کر دیا ان کا اپنا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میں تھک کر بیٹھ جاتا تھا تھا وہ معصوم بچی اپنے ہاتھوں سے ننھے ہاتھوں سے وہ چار سال کی بچی اس مٹی کو اس گڑھے سے نکالنا شروع کر دیتی یہاں تک کہ جب وہ گڑھا بن گیا تیار ہوگیا تو میں نے اپنی بیٹی سے کہا اس میں جھانک کر دیکھو تمہیں تمہاری ماں کی شکل نظر آرہی ہے جیسے یہ بچی اس گڈھے میں جانکتی ہے ایسے دھکا لگا دیا وہ بچی زمین کے اندر چلی گئی ویسے مٹی ڈالنا شروع کر دی یہاں تک کے حلق تک مٹی ڈال تو وہ کہنے لگی کہ میرے بابا جان کل قیامت کا دن ہو گا اللہ تبارک وتعالی قیامت کے دن اللہ پوچھے گا کہ بتاؤ تم کو زندہ دفن کیا گیا تھا زمین میں تمہیں کو لوگوں نے کیوں دفن کیا تمہارے باپ نے کیوں دفن کیا
تمہارے باپ نے تمہیں زمین میں دفن کیا تھا تمہارا گناہ کیا تھا تو بیٹی کہہ رہی ہے کہ میرے باپ قیص میں آپ کا نام نہیں لونگی بلکہ میرا اللہ کہے گا کہ اے بیٹا تمہیں تمہارے باپ نے زمین میں کیوں دفن کیا تو میں کہہ دوں گی کہ میرا جرم یہ تھا کہ تو نے مجھے لڑکی بنا کر پیدا کیا تھا اگر تم مجھے لڑکا بنا کر پیدا کرتا میں بھی دنیا کی عیش و عشرت میں رہتی اور اچھی زندگی بسر کرتی میرا جرم یہ تھا کہ تو نے مجھے لڑکی بنا کرپیدا کیا لیکن آقا علیہ السلام کی نصیحت کے بعد آقا علیہ الصلاۃ والسلام جو دین بتایا اس کا یا پ بیٹیوں کے ساتھ کیسے رہا جائے بچوں کیساتھ کیسے رہا جائے خدا کی قسم وہ لوگ جو زمین میں بچیوں کو درگور کر رہے تھے وہی باپ اپنی بیٹیوں کو گلے سے سینے سے لگاتے نظر آنے لگے بیٹی کے سر پر شفقت و محبت کا ہاتھ رکھ کے نظر آنے لگے لگے لیکن آج پھر ایسے کانٹھ ایسا وقت اس طرح کے کانٹھ سامنے آرہے ہیں اس بہن کے لیے دعا گو ہیں اور بہت زیادہ دل سے میری یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی
آپ کے شوہر کی طرف نے ایسی محبت عطا فرمائے آپ کو ساری زندگی اپنے باپ کی یاد نہ آئیں اور ا آپ بالکل بے فکر رہیں آپ کے اوپر ذرہ برابر بھی گناہ نہیں ہے لیکن ایک غلطی آپ نے کی وہ غلطی ہے کیا آپ کو اپنے باپ کی بات کو لے کر دبنا نہیں چاہئے بلکہ آپ کو اس وقت اس بات کو لے کرچرچہ کرنا چاہیے تھا تاکہ آپ کے والد کو آپ کے باپ کو باپ کہتے ہیں باپ کو شرم آتی اس کو اس بات کی سزا ملنی چاہئے تھی کہ اللہ کے ہاں بہت زیادہ دعا گو ہوں آپ لوگ بھی اس خاتون کے لیے دعا کریں اور اس کے باپ کی اسی باپ کی زندگی میں نے آپ کو بتائی ہیں وہ میرے خیال سے اپنی دنیا میں ہی نہیں رہا جب معاشرے میں جب ماحول میں ایسی بے غیرتی ہے کہ باپ اور بیٹی ایک سادہ سے گھروں میں رہ کر ٹی وی دیکھتے ہی دیکھتے ہیں تو پھر آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جو ان میں شیطان بھی ہوتا ہے جو کہ دلوں کے اندر گندے خیالات ڈالتا ہے ایسا باپ کروڑوں اربوں کھربوں میں ایک ایسا ہوتا ہے ورنہ ہر باپ اپنی بیٹیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں کتنی شفقت کرتے ہیں کتنی محبت کرتا ہے جتنی زیادہ ان کی کیر کرتا ہے دوسروں کے ہاں بیٹی کی عزت خراب نہ ہو ان کو کس طریقے سے باخبر رکھتا ہے لیکن یہ ہے کہ یہاں پر ہے ایک دو اس طرح کے پاب ہے تو وہاں کروڑوں اربوں کھربوں باب ایسے ہیں جو کہ بہت زیادہ محبت کرتے ہیں شفقت کرتے ہیں جن کو اپنی بیٹیوں کے بغیر ایک لمحہ چین نہیں ملتا ہے جو اپنی بیٹی کے آنکھ میں آنسو برداشت نہیں کرتے میں ان تمام نیک باپو کے لیے میں ان تمام نیک والدین کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالی انکے والدین کا سایہ بچوں پر قائم و دائم فرمائے اور ہمارے والدین کا سایہ ہم پر اللہ تبارک و تعالیٰ دائم فرمائے آمین




